وسعت اللہ خان سے مکالمہ ذرا ہٹ کے۔۔۔۔۔۔۔۔!

وسعت، ہم ایک دوسرے کو 1980ع سے کراچی یونیورسٹی سے جانتے ہیں، جب تم جمعیت کے اہم رکن اور میں پروگریسو فرنٹ کا سرگرم کارکن ہوا کرتا تھا، البتہ علم دوستی ہم دونوں کی مشترکہ دلچسپی رہی ہے۔ لیکن کل “تم نے ذرا ہٹ کے” میں جو بات کی ہے وہ تاریخ سندھ کے حوالے سے تمہاری لاعلمی کا مظہر ہے، جسے میں ترتیب- وار یوں درست کروں گا:
1- سندھ گزشتہ 1200سال میں ایک مرتبہ بھی جغرافیائی طور پر تقسیم نہیں ہوا۔ چاہے وہ مغل سلطنت کا باج گزار رہا، بمبئی پریزیڈنسی کاحصہ رہا، ون یونٹ میں ضم ہوا یا ملکی دارالخلافہ رہا۔ جبکہ آپ کے بھائی لوگ سندھ کا تاریخی تشخص ختم کرکے اس کا جفرافیائی بٹوارہ چاہتے ہیں، جس کی اجازت سندھ تو کیا دنیا کا کوئی بھی مہذب سماج نہیں دے سکتا۔
2- سندھ کے شہری علاقوں کا ملکی اقتدار سے لے کر ہر شعبے میں حصہ کوٹا سے بہت زیادہ ہے۔ جس کا آج بھی ایک ثبوت مرکزی کابینہ میں اسد عمر، واوڈا، علی زیدی، فروغ نسیم سمیت دس وزیروں کی شکل میں موجود ہے۔ ان علاقوں کو تکلیف کوٹا سے نہیں، اس سندھی مڈل کلاس سے ہے جو آرمی سمیت ملکی اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر اپنا کھویا ہوا حصہ لے رہی ہے۔ بھائی لوگوں کو جام صادق جیسا جاگیردار پسند ہے پر اسٹینفرڈ کا گریجویٹ لوئرمڈل کلاسی مراد علی شاہ ناپسند۔ کیونکہ وہ جدید دور میں کسی احساس کمتری میں گئے بغیر دلیل سے بات کرسکتا ہے
4- کراچی کو سندھی حکمرانوں نے کم بھائی صاحب نے زیادہ تباہ کیا ہے، جس نے ایک تعلیم یافتہ کمیونٹی کی تعلیم کو تباہ کرکے اسے، کمانڈو، کن کٹا، چریا ، کانا وغیرہ دے کر دہائیوں پیچھے دھکیل کر، اس کمیونٹی کی ملک سے وفاداری کو مشکوک کردیا
5- کراچی کا میونسپلٹی نظام گزشتہ 70 سالوں میں عموماً اور 32 برسوں میں خصوصاً بھائی لوگوں کے ہاتھوں میں رہا۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل جو کہ 80 فیصد اردو آبادی پر مشتمل ہے، وہ 100 فیصد بھائی لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، اور اس وقت وہ کراچی کا سب سے زیادہ تباہ ضلع وہی ہے۔
6- حقیقت یہ ہے کہ آپ کے سورماؤں کے مقابلے میں سندھ کی خدمت تو سر بارٹل فریئر، بئرو ایلس، کیپٹن اسٹیک، پادری شرٹ سے لے کر ایچ ٹی سارلے سمیت سینکڑوں انگریزوں نے کی۔ جو قابض تو تھے لیکن بھائی لوگوں کی طرح جارح نہیں تھے۔ انہوں نے سندھ کو خوب کھایا پیا، لیکن تعلیم، انفرا اسٹرکچر، زبان، ٹیکنالوجی سمیت بہت کچھ دیا بھی۔ اور کبھی بٹوارے کا سوچا تک نہیں۔

وسعت، اگر تم ایک انصاف پسند شخص ہو تو اپنی غلطی کا اعتراف کر کے سندھ والوں سے معافی مانگو، جنہوں نے تمہیں ہر دور میں اپنی آنکھوں میں جگہ دی ہے، یا تو جس فورم پر چاہو مجھ سے مکالمہ کرو، میں تمہیں سندھ کی تاریخ بھی دوبارہ پڑہائوں گا اور دلیلوں کی زبان سے تمہیں غلط ثابت کروں گا۔